ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آئے دن پولیس افسران اور جوانوں کی خود کشی تشویشناک،محکمہ میں ضابطہ شکنی قطعاً برداشت نہیں کی جائے گی: سدرامیا

آئے دن پولیس افسران اور جوانوں کی خود کشی تشویشناک،محکمہ میں ضابطہ شکنی قطعاً برداشت نہیں کی جائے گی: سدرامیا

Fri, 21 Oct 2016 14:58:06    S.O. News Service

بنگلورو،20؍اکتوبر(ایس او نیوز) آئے دن پولیس تھانوں کے اندر اور باہر پولیس افسران اور جوانوں کی خود کشی کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہاکہ پولیس والے اگر خود کشی کرنے لگیں تو عوام میں اس کا الٹا اثر مرتب ہوگا اور پولیس پر جو اعتماد ہے وہ ختم ہوکر رہ جائے گا۔ آج پولیس میڈلس کی تقسیم کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سدرامیا نے کہا کہ پولیس جوانوں اور افسران کو ذہنی طور پر مضبوط رہنا چاہئے، اس کیلئے حکومت انہیں خصوصی تربیت سے آراستہ کرنے تیار ہے۔ سدرامیا نے کہاکہ ڈسپلن کیلئے معروف پولیس محکمہ میں ضابطہ شکنی قطعاً برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ پولیس والوں اور سیاستدانوں کی کوئی ذاتی زندگی نہیں ہوتی، ان دونوں کو اپنے آپ کو عوام کیلئے وقف کرنے کا حوصلہ ہو تو خدمات پر مامور رہنا چاہئے ورنہ کوئی اور راستہ منتخب کرلیں۔ پولیس پر عوام کے جان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری ہے۔اسی لئے انہیں عوام سے اپنا رابطہ بہتر بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ پولیس والوں کی خدمات کا اعتراف عوام کریں یا نہ کریں انہیں اپنا کام خلوص سے کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ یہ بات سچ ہے کہ ہمیشہ پولیس والوں پر کام کا دباؤ کافی زیادہ ہوتا ہے ، لیکن اسی کو بنیاد بناکر اگر ضابطہ شکنی کرنے لگیں تو اس سے پولیس فورس بدنام ہوگی۔ وزیر اعلیٰ نے ریاست کے خفیہ محکمہ کو اور مستحکم کرنے اور اس فورس میں شامل ہونے والوں کو خصوصی تربیت سے آراستہ کرنے پر زور دیا۔وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے اس موقع پر مخاطب ہوکر کہا کہ پولیس کوعوام پرور رویہ اپنانا چاہئے۔عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ پولیس کے ساتھ ان کا دوستانہ تعلق رہے۔ پولیس جوانوں اور افسران کو اپنی بول چال کا طریقہ تبدیل کرنا چاہئے۔ بعض اوقات تحکمانہ لہجہ کی وجہ سے پولیس کے اچھے کاموں پر بھی پانی پھر جاتا ہے۔ پولیس کے پیشہ کو تمام پیشوں سے بہتر قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ پولیس فورس کی تربیت کو ایک نئی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ شہر بنگلور بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کررہا ہے۔ ساری دنیا کی نظر اس شہر کی ترقی پر ٹکی ہوئی ہے۔اس شہر میں امن وامان برقرار رکھنا اور تمام طبقات سے انصاف کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ حالیہ دنوں میں پیش آئے کچھ واقعات کی وجہ سے پولیس جوانوں کے بے صبرے ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ان واقعات کی خبر نگاری میں میڈیا کو تحمل سے کام لینا چاہئے ، بعض اوقات میڈیا کی اشتعال انگیزی نے حالات کو قابوسے باہر کردیا ہے۔ ان حالات کی وجہ سے پولیس والوں پر ذہنی دباؤ بڑھ جاتاہے۔ خاص طور پر انہوں نے حالیہ کاویری فسادات کا درپردہ حوالہ دیتے ہوئے یہ بات کہی۔اس موقع پر اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے گورنر نے کہاکہ پولیس پر ہماری حفاظت کی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کو ادا کرنے میں ریاستی پولیس نے کافی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ عوام کا پولیس پر جو اعتماد ہے اسے کبھی متزلزل نہ ہونے دیاجائے۔ کسی بھی ریاست کی تمام شعبوں میں کامیابی نظم وضبط کی بہتری پر منحصر ہے۔ کرناٹک پولیس نے نظم وضبط کی نگرانی میں اپنا نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن پولیس افسران نے اپنی دیانتداری سے میڈل حاصل کئے ہیں وہ دوسروں کیلئے رول ماڈل بنیں۔ چوری ،جوا ، قتل ،ڈکیتی ، جھوٹ وغیرہ کو انسانی فطرت کا حصہ قرار دیتے ہوئے گورنر نے کہاکہ پولیس کی ذمہ داری یہی ہے کہ انسان کو اپنی فطرت کے اس پست ترین مقام تک پہنچنے سے روکے۔ اس موقع پر گورنر واجو بھائی والانے 66 پولیس افسران اور جوانوں کو بہادری میڈل ، صدارتی میڈل ، وشسٹ سیوا میڈل وغیرہ سے نوازا۔ چیف سکریٹری سبھاش کنٹیا ،ڈی جی پی اوم پرکاش اور دیگر اس موقع پر موجود تھے۔


Share: